Mohammadi Begum
ایک نوجوان مسلم طالبہ، محمدی بیگم، ۱۹۳۰ء کی دہائی کے اوائل میں شاہی ریاست حیدر آباد سے انگلستان پہنچیں ۔ انھیں تعلیمی قابلیت اور تیز فہم ذہانت کے باعث آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے وظیفہ ملا، جس سے وہ اُن چند ہندوستانی مسلمان خواتین میں شامل ہوگئیں جنھیں یہ موقع حاصل ہوا ۔
سماجی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے کی وجہ سے وہ کمیونزم، فاشزم اور سوشلزم جیسے جدید سیاسی و سماجی نظریات سے بھی آگاہ تھیں ۔ اسی وجہ سے وہ آکسفورڈ میں اپنے زمانہ طالب علمی میں سیاست پر ہونے والی گفتگو اور بحث و مباحثوں میں بھی حصہ لیتی رہیں۔ اس وقت برطانوی ہندوستان میں آزادی کی تحریک بھی زور پکڑ چکی تھی۔
Showing 1 to 1 of 1 (1 Pages)