اردو کے ایوانِ شعر کے صدر دروازے پر جو آوازیں دستک دے رہی ہیں، ان میں ایک چھوٹا سا ہاتھ ایسی آواز کا بھی ہے جو اردو سے ہزاروں میل دور، سیمنٹ اور شیشے کے لامتنا ہی جنگل میں اردو کی جوت جگائے ہوئے ہے۔ اس آواز کا نام حمیرا رحمٰن ہے۔ اس آواز میں وہ کسک اور چبھن بھی ہے اور وہ آنچ بھی جو عورت کے وجود کی دنیا ہے۔ حمیرا کے اشعار میں خواہشوں کا راگ بھی ہے، لیکن ایسا راگ جس کا چھیڑ نے والا دھیمے سُر کی پتی لگانا بھی جانتا ہے۔ حمیرا اپنی کم عمری کے باوجود اردو کے اظہاری سانچوں کے رموز سے نا آشنا نہیں۔ اس کی زمینوں، ساختوں اور پیکروں سے اندازہ ہوگا کہ وہ فکر و احساس کی ندرت سے لطف اندوز ہونے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ تجربے کو احساس و اظہار کی نئی دھار دینا شعری صلاحیت کی پہلی پہچان ہے۔ حمیرا نے اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھایا تو کشتِ عر کو اس سے کوئی گلہ نہ ہوگا۔ خوشی کی بات ہے کہ اس کی شعری میں یہ عزم ہے۔ قطرہ قطرہ اشک بہا کر سات سمندر بو جائیں چلیے ہم اپنے ہاتھوں سے اپنا مقدر بو جائیں پروفیسر گوپی چندر نارنگ