پاکستانی حکومتیں عوام کی صحت کی بہتری کے نام پر کروڑوں ڈالر کی بیرونی امداد لے چکی ہیں ، لیکن صحت کا نظام جیسے پہلے ابتر تھا ویسے ہی اب بھی ہے۔ یہ کروڑوں ڈالر آخر کہاں گئے ؟ زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟ یہ کتاب انہی سوالات کے جوابات کی جستجو ہے۔ تماشۂ اہلِ کرم میں ڈاکٹر سمیعہ الطاف حکومت کے ایک مخصوص سوشل ایکشن پروگرام کی تفتیش کرتی ہیں، جو ۱۹۹۲ء میں عالمی بینک کی لاکھوں ڈالر کی امداد سے شروع ہوا تھا۔ ڈاکٹر سمیعہ اس پروگرام کی پرت پرت پھرولتے ہوئے آنکھوں دیکھا حال سناتی ہیں، جو کئی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ان کہانیوں میں، جو بیک وقت ہنساتی بھی ہیں اور رلاتی بھی، ڈاکٹر سمیعہ حکومتی اداروں کی کارکردگی، سرکاری افسران کی ترجیحات اور بیرونی امدادی اداروں کی حکمتِ عملی سے پردہ اٹھاتے ہوئے، مریضوں کی بےبسی اورعورتوں کی مظلومیت کی داستان سناتی ہیں۔ نظامِ صحت پر اثر انداز ہوئے بغیر، کروڑوں ڈالر کی امداد کے غائب ہوجانے کا راز، روز مرہ کی ان کہانیوں سے عیاں ہوتا ہے۔